اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ
یہ کہ کہاں، کب اور کیسے، امام مسلمین اور محاذ حق سے جا ملتے ہو، بجائے خود اہم مسئلہ ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو شاید امام حق اور محاذ حق کو جانتے بھی ہوں، لیکن دین حق کی مدد کے لئے بر وقت عمل نہیں کرتے، بالکل کوفہ کے توابین کی طرح، جو شہید بھی ہوئے، لیکن بر وقت عمل نہ کرنے کی وجہ سے نہ تو مطلوبہ نتیجہ حاصل کر سکے اور نہ ہی وہ شہدائے کربلا کے قافلے میں ان کا نام لکھا جا سکا!
مستند تاریخی مرویات کے مطابق کربلا والوں کی سات قسمیں تھیں:
1۔ کچھ لوگ مدینہ سے امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ آئے تھے جو زیادہ تر آپ کے اعزہ و اقارب تھے، عباس، علی اکبر، قاسم وغیرہ ان ہی میں سے تھے، حجاز کی آبادی زیادہ تھی لیکن انہوں نے گوشہ عافیت اختیار کیا تھا، لیکن نہ انہیں عافیت ملی اور نہ ہی کامیاب ہوئے: یزید کا مکہ اور مدینہ پر حملہ اس کی مثال ہے، اور اگر مکی اور مدنی ساتھ آتے تو یقینا یزید کبھی بھی ان مقدس شہروں ـ اور مسجد نبوی اور مسجد الحرام ـ کی بے حرمتی نہ کر سکتا۔
2۔ کچھ افراد مکہ سے کوفہ کی طرف عزیمت کے دوران راستے میں میں امام سے آ ملے، جیسے مجمع بن عبداللہ اور ان کا بیٹا۔
3۔ کچھ افراد کربلا میں شب عاشورا سے قبل امام کی خدمت میں حاضر ہوئے؛ جیسے حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ اسدی وغیرہم۔
4۔ کچھ لوگ شب عاشورا امام حسین (علیہ السلام) سے آ ملے، ان میں 32 افراد وہ تھے جو عمر بن سعد کے یزیدی لشکر سے علیحدہ ہوکر خیام حسینی میں آئے تھے۔
5۔ کچھ لوگ روز عاشورا جنگ سے پہلے امام کی مختصر سپاہ میں شامل ہوئے جن میں حر بن یزید ریاحی شامل ہیں۔
6۔ کچھ لوگ وہ تھے جو جنگ شروع ہونے کے بعد امام کی خدمت کرنے کی توفیق سے بہرہ مند ہوئے جن میں سعد بن حارث شامل ہیں۔
7۔ کچھ لوگ امام کی شہادت کے بعد محاذ حق سے ملحق ہوئے اور جام شہادت نوش کر گئے جیسے ابوالحتوف بن حارث، جنہوں نے خیام میں بچوں کا گریہ سن کر دشمن پر حملہ آور ہو کر شہید ہوئے۔
نکتہ: بصرہ کے لئے امام کے سفیر "سلیمان بن رزین"، (امام حسین (علیہ السلام) کے خادم، اور واقعہ کربلا کے پہلے شہید)، اور مسلم بن عقیل، عبداللہ بن یقطر لیثی اور قیس بن مسہر صیداوی - جو امام کے سفیر تھے، اور واقعۂ کربلا سے پہلے بصرہ اور کوفہ میں یزیدی کارگزار عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ یہ افراد سیدالشہداء کے ہمراہ مدینہ سے آئے تھے۔ ہانی بن عروہ بھی مسلم بن عقیل(ع) کا ساتھ دینے کے صلے میں ابن زیاد لعین کے ہاتھوں شہید ہوئے، اور ان سب کو شہدائے کربلا کے زمرے ميں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ب۔ یہ کہ ضرورت اور خطرے کے وقت؛ کہاں اور کیسے دین حق اور امام حق کی مدد کے لئے لپکتے ہو، اس کے لئے عاشورائی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ورنہ تو ممکن ہے کہ دیکھ لو عاشورا میں شہادتوں کو، مجاہدتوں کو اور مظلومیتوں کو، اور تماشا دیکھنے کے سوا تمہارے حصے میں کچھ بھی نہ آئے، اور ممکن ہے پیغام حسین (علیہ السلام) کو سن بھی لو لیکن عافیت کو مشن سنبھالنے پر ترجیح دو۔ عاشورا آج بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یاددہانی کا دن ہے اور مجلس و عزا داری اگر با مقصد نہ ہو اور کفر و شرک کے علمبرداروں اور زمانے کے یزیدوں کے لئے خطرہ نہ بنیں، تو خود ہی دیکھو، کیا امام حسین (علیہ السلام) کا حق ادا کر رہے ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110